Thursday, 30 September 2010

نیلا میرا وجود گھڑی بھر میں کرگیا



نیلا میرا وجود گھڑی بھر میں کرگیا
وہ زہر کی طرح مرے دل میں اتر گیا


پلکیں لرز کے رہ گئیں اور دیپ بجھہ گئے
الزام اب کے بار بھی آندھی کے سر گیا


اب کس لئے سنبھال کے رکھوں بصارتیں
آنکھوں سے خواب چھین کے جب چارہ گر گیا


اس سے بچھڑ کے دل کا ہوا ہے عجیب حال
پانے کی آرزو گئی، کھونے کا ڈر گیا


جب موسموں نے پھر سے بغاوت کی ٹھان لی
ٹہنی پہ پھول کھلنے سے پہلے بکھر گیا


بہتر ہے خود رفو گری سیکھوں کہ آج تو
گھاؤ کھلے ہی چھوڑ کے وہ چارہ گر گیا


اس پر یقیں بحال ہوا تو وہ ایک دم
اقرار کے مقام پہ آ کر مکر گیا


آنکھوں سے نیند، دل سے سکوں ہوگیا جدا
لگتا ہے اپنے ساتھ کوئی ہاتھہ کرگیا


سورج نے ساتھہ چھوڑا تو دیکھا پلٹ کے تب
سوچا، جو ساتھہ چلتا تھا سایہ کدھر گیا


0 comments:

Post a Comment