Saturday, 16 October 2010

وہ دلاور جو سیاہ شب کے شکاری نکلے


وہ دلاور جو سیاہ شب کے شکاری نکلے
وہ بھی چڑھتے ہوئے سورج کے پجاری نکلے


سب کے ہونٹوں پہ مرے بعد ہیںباتیں میری!
میرے دشمن میرے لفظوں کے بھکاری نکلے


اک جنازہ اُٹھا مقتل سے عجب شان کے ساتھ
جیسے سج کر کسی فاتح کی سواری نکلے


ہم کو ہر دور کی گردش نے سلامی دی ہے
ہم وہ پتھر تھے جو ہر دور میں بھاری نکلے


عکس کوئی ہو خدوخال تمہارے دیکھوں
بزم کوئی ہو مگر بات تمہاری نکلے


اپنے دشمن سے میں بے وجہ خفا تھی سونو
میرے قاتل تو میرے اپنے حواری نکلے

 

0 comments:

Post a Comment