Saturday, 16 October 2010

ہر کوئي دل کي ہتھيلي پہ ہے صحرا رکھے


ہر کوئي دل کي ہتھيلي پہ ہے صحرا رکھے
کس کو سيراب کرے وہ کسے پياسا رکھے
عمر بھر کون نبھاتا ہے تعلق اتنا
اے مري جان کے دشمن تجھے اللہ رکھے

ہم کو اچھا نہيں لگتا کوئي ہم نام تيرا
کوئي تجھ سا تو پھر نام بھي تجھ سا رکھے

دل بھي کہ اس شخص سے وابستہ ہے
جو کسي اور کا ہونے دے نہ اپنا دکھے

قناعت ہے اطاعت ہے کے چاہت فراز
ہم تو راضي ہيں وہ جس حال میں جيسا رکھے

0 comments:

Post a Comment