Saturday, 23 October 2010

پاؤں کے زخم دکھانے کی اجازت دی جاۓ



پاؤں کے زخم دکھانے کی اجازت دی جاۓ

ورنہ رہگير کو جانے کی اجازت دی جاۓ



کوئ ترياق نہيں غم کا،علاوہ غم کے

زہر ميں زہر ملانے کی اجازت دی جاۓ



دوغلے پن کا ہنر سيکھ ليا ہے ميں نے

اب مجھے شہر ميں آنے کی اجازت دی جاۓ



کار _ دنيا!! مجھے مجنوں نہيں بننا ہے،مگر

عشق ميں نام کمانے کی اجازت دی جاۓ



اس قدر ضبط مری جان بھی لے سکتا ہے

کم سے کم اشک بہانے کی اجازت دی جاۓ



يہ زمانہ تو نہ تھا ميرے موافق مولا!۔

اب مجھے اگلے زمانے کی اجازت دی جاۓ

0 comments:

Post a Comment