Tuesday, 12 October 2010

اسے نئی قسمیں کھانے سے بھلا کون روک سکتا ھے




اسے نئی قسمیں کھانے سے بھلا کون روک سکتا ھے
مجھے چھوڑ کے جانے سے بھلا کون روک سکتا ھے

مجھـ کو کیا سمجھاتے ھو ، ناصح خود ہی ذرا سوچو
کسی سے دل لگانے سے بھلا کون روک سکتا ھے

عجب حالات ہیں ، دل میں اک عجیب ویرانی سی ھے
خود اپنا دل کو جلانے سے بھلا کون روک سکتا ھے

میرے بھولے ھوئے دلبر کو کوئی یہ بتلائے بھلا جا کر
دل میں اس کی یاد کو آنےسے بھلا کون روک سکتا ھے

سنبھالا ھے بہت ھم نے خود کو، مگر پھر بھی دل کو
اس کے پیچھے جانے سے بھلا کون روک سکتا ھے

جـانے والے جـا کر بھول کیوں جاتے ہیں خدا جانے
کسی کو وعدے بھلانے سے بھلا کون روک سکتا ھے

میری قسمت اب میں شاید صرف جدائی ھی جدائی ھے
ہجر میں جی جلانے سے بھلا کون روک سکتا ھے

رھے وہ خوش جہاں بھی ھے، یہی ھے اب دعائے سونو
اور دعا کو رب تک جانے سے بھلا کون روک سکتا ھے

0 comments:

Post a Comment