Monday, 4 October 2010

اپنی ہی روانی میں بہتا نظر آتا ہے


اپنی ہی روانی میں بہتا نظر آتا ہے
 
یہ شہر بلندی سے دریا نظر آتا ہے

دیتا ہے کوئی اپنے دامن کی ہوا اسکو
شعلہ سا مرے دل میں جلتا نظر آتا ہے

اس ہاتھ کا تحفہ تھا اک داغ مرے دل پر
وہ داغ بھی اب لیکن جاتا نظر آتا ہے

آنکھوں کے مقابل ہے کیسا یہ عجب منظر
صحرا تو نہیں لیکن صحرا نظر آتا ہے

اک شکل سی بنتی ہے ہر شب مری نیندوں میں
اک پھول سا خوابوں میں کھلتا نظر آتا ہے

آنکھوں نے نہیں دیکھی اس جسم کی رعنائ
یہ چار طرف جس کا سایا نظر آتا ہے

دریا کو کنارے سے کیا دیکھتے رہتے ہو
اندر سے کبھی دیکھو کیسا نظر آتا ہے

پھر ضو میں سونو اپنی کچھ کم ہے ستارہ وہ
یہ رات کا آئینہ دھندلا نظر آتا ہے

0 comments:

Post a Comment