skip to main |
skip to sidebar
محبت کو بھلانا چاہیے تھا مجھے جی کر دکھانا چاہیے تھا مجھے تو ساتھ اس کا بھی بہت تھا اسے سارا زمانہ چاہیے تھا پرندہ اس لیے بے کل تھا اتنا اسے بھی آشیانہ چاہیے تھا تم اُس کے بن ادھورے ہو گئے ہو تمہیں اُس کو بتانا چاہیے تھا بہت پھرتا رہا تھا در بدر میں مجھے بھی اک ٹھکانہ چاہیے تھا چراغاں ہو رہا تھا شہر بھر میں ہمیں بھی دل جلانا چاہیے تھا
Posted in: Beeti Yaadein
Email This
BlogThis!
Share to Facebook
0 comments:
Post a Comment