Sunday, 7 November 2010

ہماري سوچوں پہ چھا گيا ہے


ہماري سوچوں پہ چھا گيا ہے
ہمارے دل ميں سما گيا ہے

صبا مہکتي ہے کے ہم کو
گلاب ، خوشبو بنا گيا ہے

ہماري آنکھوں ميں ٹمٹما تے
چراغ کوئي جلا گيا ہے

ذرا بھي نادم نہيں ہے اس پر
جو شہر ہستي مٹا گيا ہے

لرزتي پلکيں گواہي ديں گي
ہماري آنکھوں کو بھا گيا ہے

ہوا کي سر گوشياں ہيں شاہد
جو جا چکا تھا وہ آگيا ہے

ہميں سے شکوے بتول اس کو
جو سارے وعدے بھلا گيا ہے

0 comments:

Post a Comment